کولکاتہ13جون (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ہڑتال میں مصروف ڈاکٹروں کو جمعرات کی دوپہر تک کام پر واپس کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ڈاکٹر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مارپیٹ کی مخالفت کر رہے تھے۔ ممتا نے کہا کہ اگر ڈاکٹر اس حکم پر عمل نہیں کرتے ہیں تو ان پر کارروائی کی جائے گی۔ این آرایس میڈیکل کالج میں دو ساتھی ڈاکٹروں کے ساتھ مار پیٹ کے بعد منگل سے ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں اور انصاف دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مخالفت کے باعث ریاست میں دو دن سے ریاستی حکومت کی طرف سے ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ، پیتھالوجی یونٹ اور دیگر سہولیات بند ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ پرائیویٹ ہسپتال بھی بند ہیں۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث ریاست میں متاثرطبی خدمات کے پیش نظر ممتا ہسپتال پہنچیں۔ انہوں نے پولیس کو ہسپتال خالی کرانے کا حکم دیا، ساتھ ہی کہا کہ ہسپتال میں مریضوں کے علاوہ کسی کو احاطے میں نہ رکنے دیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے دعوی کیا کہ ڈاکٹروں کی یہ تحریک ان کے سیاسی مخالفین کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کی مذمت کرتی ہوں۔ اس میں سی پی آئی اور بی جے پی کی سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالج اور ہسپتالوں میں پریشانیاں بڑھانے کے لئے باہر کے لوگ داخل ہوئے ہیں۔ بی جے پی اس ہڑتال کو فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتی ہے۔ ممتا نے کہا کہ بی جے پی سی پی آئی کی مدد سے ہندو -مسلم سیاست کر رہی ہے۔ میں دونوں پارٹیوں کی آپسی محبت دیکھ کر حیران ہوں۔ بی جے پی صدر امت شاہ اپنے پارٹی کے کارکنوں کو کشیدگی پیدا کرنے اور فیس بک پر پروپیگنڈہ کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ ادھر بی جے پی لیڈر مکل رائے نے الزام لگایا ہے کہ ایک خاص کمیونٹی کے لوگوں نے ڈاکٹروں پر حملہ کیا، حملہ آور ترنمول سے وابستہ ہیں۔